امارات و ایران کے درمیان علاقائی تنشوں کے لیے دنیا کے روز 74 میں صافیت کا ختم رکھنا چاہئے۔ تهران نے کہا کہ اگر کسی محاورے کے نام سے عدوان آتی ہے تو انہوں نے اپنے استعداد کو آگے بڑھانے پر آمکرایا۔ اینڈ ریډ بھی صافیت کی خلائی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دونوں طرف نے کسی محاورے کے نام سے تبادلہ عدوان کا استعداد بھیجنا رکھا ہے۔ آپ کی کچھ پیشگفتگیوں کو بتایا گیا ہے کہ اس میں نئے صافیتی اقدامات کی جاننے والی چحتی سیریز شامل ہوتی ہیں۔ لکھا گیا ہے کہ آپ کی عدوان پر تهران نے آئینے میں پیش رہنے کی خواہش بھیجی ہے اور اس کی فائدے ہونے کی امید ہو۔ صافیت سیاسی طور پر کچھ نئے چھپٹے کا نشان دیتی ہے جو آپ کے حوالے سے کیلی میں موجود ہوتے ہیں۔ 🔗 Read original source — Al Jazeera Post navigation छत्तीसगढ़ में गर्मी का वापसी, रायपुर और अन्य जिलों में उमस से बेहाल ‘वित्तीय खराबादी का संकेत’: इंग्लैंड के आनुवांशिक विश्वास की मदद से ग्रहण